ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اُترپردیش میں بارہ سالہ یتیم بچہ کو ملا بینک کا نوٹس ، والد کی قرض لی ہوئی رقم واپس لوٹانے کا حکم

اُترپردیش میں بارہ سالہ یتیم بچہ کو ملا بینک کا نوٹس ، والد کی قرض لی ہوئی رقم واپس لوٹانے کا حکم

Thu, 02 Nov 2017 04:28:45    S.O. News Service

لکھنؤیکم نومبر ( ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش کے سیتاپور میں بینک کی ایک حیران کر دینے والی حرکت سامنے آئی ہے۔ واضح ہو کہ یہ وہی ملک ہے جہاں نوسو کروڑ روپے کا ڈیفالٹر بیرون ملک فرار ہوکر نئی زندگی اور تعیشات کے جلو میں رہا کرتا ہے تو وہیں یوگی کی قیادت میں اُترپردیش  جیسی کثیر آبادی والی ریاست میں بینک کی طرف سے بارہ سالہ لڑکا کو ایک نوٹس موصول ہوتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ اپنے فوت شدہ والد کی طرف سے لی گئی قرض کی رقم واپس لوٹائیں۔

اس معصوم کو اس بات کا فہم بھی نہیں ہے کہ وہ اتنی کثیر رقم کا انتظام کس طرح کرے گا۔ یہ واقعہ سیتاپور کے بسواں واقع تھانہ گاؤں کا ہے ۔جہاں کے باشندے لالتا پرساد نے نومبر 2005 میں یوپی کوآپریٹو گرامین ترقیاتی بینک سے 52 ہزار روپے کا قرض لیا تھا۔تنگ حالی کی وجہ سے لالتا پرساد قرض لی ہوئی رقم جمع نہیں کر اسکے اور قرض کی رقم مع سود بڑھتے بڑھتے دو لاکھ سے تجاوز کر گئی ۔ ادھر تنگ حالی اور بیماری کی وجہ سے لالتا پرساد کی ایک سال پہلے ہی موت واقع ہو گئی۔ لالتا پرساد کی موت کے صدمے سے ابھی لواحقین جانبر بھی نہ ہوسکے تھے کہ دو دن پہلے لالتا پرساد کے 12 سالہ بیٹے آنندپورن کے نام سے گھر پہنچے بینک کے نوٹس نے کھلبلی مچا دی۔ نوٹس  میں آنندپورن کو 2 لاکھ 6 ہزار روپے جمع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اُترپردیش وہی ریاست  ہے جہاں کسانوں سے قرض معافی کے نام پر بیس سے پچاس روپے معاف کر کے ان کے ساتھ مذاق کیا گیا تھا ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا آنند پورن دو لاکھ کی خطیر رقم  بینک کو واپس کرپائے گا ؟ 


Share: